Ottoman Empire

عثمان غازی کا خلافت عثمانیہ قائم کرنے کا اعلان Kurulus Osman

ناظرین کرام، کورولش عثمان میں عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ کا اعلان کردیا ہے۔ Kurulus Osman

اور یہ ڈرامہ دیکھتے ہوئے کرلش عثمان کے وہ مداح جو تاریخ میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں وہ یقینا جاننا چاہتے ہوں گے کہ جب عثمان

نے اپنی خودمختار ریاست کے قیام کا اعلان کیا تو ان دنوں سلجوقی سلطنت کے کیا حالات تھے عثمان غازی کے سلجوقوں کے آخری دور میں یعنی سلجوقی سلطنت کے خاتمے سے پہلے سلجوقی سلطان سے کیسے تعلقات تھے

اور عثمان غازی نے کن حالات میں اپنے سلطنت کے قیام کا اعلان کیا اور ان کے اس اہم اعلان کے بعد سلجوقی سلطان کا کیا جواب تھا تو ناظرین کرام چلتے ہیں اپنی پوسٹ کی طرف۔
کرولش عثمان جو کہ سلطنت عثمانیہ کے قیام سے متعلق ایک تاریخی ڈرامہ سیریز ہے اس کے تیسرے سیزن میں سلجوکوں کی دم توڑتی سلطنت دکھائی جا رہی ہے اور حالات ایسا رخ اختیار کرگئے ہیں کہ عثمان غازی نے اپنی سلطنت کا اعلان کردیا ہے۔ عثمان غازی نے اپنی تمام زندگی میں جو رقبہ فتح کیا وہ سولہ ہزار مربع کلومیٹر تھا

New State Of Osman Ghazi In Kurulus Osman Season 4 | Kurulus Osman Episode 99 | Lite History

لیکن عثمان غازی کو یہ رقبہ فتح کرنے میں تمام زندگی لگی اور اس میں وہ رقبہ بھی شامل تھا جو ارطغرل غازی نے فتح کیا تھا ۔ اناطولیہ کی سلجوقی سلطنت کا خاتمہ تیرہ سو آٹھ میں ہو گیا تھا اور اس وقت تک عثمان غازی اتنے وسیع رقبے کے فاتح نہیں تھےاس کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ علاءالدین کیقباد اول جو کہ سلجوقی سلطنت کے سلطان تھے

انہوں نے ارطغرل غازی کو انعام و اکرام کے طور پر دومانچ اور سوگوت کا علاقہ دے رکھا تھا ارتغل غازی کی یہ جاگیر بازنطینی سلطنت جسے آپ رومی سلطنت بھی کہہ سکتے ہیں کی سرحد پر واقع تھی ارطغرل غازی نے یہاں آباد ہو کر کچھ عیسائی علاقوں کو فتح کیا اور ان میں قابل ذکر فتح کراچہ حصار قلعہ کی فتح تھی ۔ کراچہ حصار قلعہ دو بار فتح ہوا تھا ایک بار ارطغرل غازی نے فتح کیا تھا اور دوسری بار عثمان بے نے ۔

یہ بات آپ لوگوں کے سامنے واضح کرنا ضروری ہے کہ اس وقت ترکمان قبیلوں میں ایک اکیلے ارطغرل غازی ہی نہیں تھے جنہوں نے ایسی جاگیریں قائم کیں بلکہ کئی ترکمان قبیلوں نے سلجوقی سلطنت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی ایسی جاگیریں قائم کر لی تھیں ان میں کرمیان اور جرمیان کی ریاستیں مشہور اور اہم تھیں لیکن جاگیریں قائم کرنے کے باوجود ان تمام ترکمان ریاستوں کی وفاداری سلجوقی سلطنت کے ساتھ ہی تھی۔

New State Of Osman Ghazi In Kurulus Osman Season 4 | Kurulus Osman Episode 99 | Lite History
New State Of Osman Ghazi In Kurulus Osman Season 4 | Kurulus Osman Episode 99 | Lite History

لیکن سلطان علاء الدین کیقباد اول کو جب زہر دیا گیا اور ان کے بعد ان کے بیٹے غیاث الدین کیحسرو کے دور میں جب سلجوقوں کو منگولو سے جنگ کوس داگ میں شکست ہوئی تب منگولوں نے سلجوقی سلطنت کو تو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی لیکن ان خودمختار ترکمان ریاستوں کو ان کے حال پر قائم رہنے دیا اور ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی۔ شاید اس کی یہ بھی وجہ تھی کہ اس وقت سلجوقی شہزادے منگولو کی تابعدار اور سلجوقی تخت حاصل کرنے کے لئے آپس میں ایک دوسرے کو ہی قتل کرنے میں مصروف تھے

اور انہی حالات میں عثمان غازی نے اپنی الگ سلطنت کے قیام کا اعلان کیا لیکن شاہ اکبر نجیب آبادی جو کہ برصغیر کے مشہور مورخ ہیں وہ اپنی لکھی گئی کتاب تاریخ اسلام کے جلد نمبر دو اور صفحہ نمبر تین سو اکانوے اور تین سو بانوے پر عثمان غازی کے الگ ریاست کے اعلان کے بارے میں ایک عجیب دعویٰ کرتے ہیں

عثمان غازی نے خلافت عثمانیہ کا قیام کیسے کیا؟

وہ لکھتے ہیں کہ غیاث الدین کیحسرو نے اپنی بیٹی کی شادی عثمان غازی سے کر دی تھی اور اس کو اپنی فوج کی سپہ سالاری کا عہدہ بھی عطا کیا ۔ بارہ سو ننانوے میں جب غیاث الدین کیحسرو مقتول ہوا تو تمام سلجوقی ترکوں نے سلطنت قونیا کے تخت پر عثمان خان کو بٹھایا اور عثمان خان نے خود کو سلطان کے لقب سے منسوب کیا اور یہی پہلا خاندان ہے جس کے نام سے اس کے خاندان میں سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی لیکن ناظرین کرام یہ تاریخ قدیم ترک تاریخ دانوں کی لکھی گئی اس تاریخ کے الٹ ہے جو کہ مالہون اور بالا کو عثمان کی بیویاں بتاتے ہیں اور ان دونوں میں سے کوئی بھی سلجوقی سلطنت کے سلطان کی بیٹی نہیں تھی

Tariq Bin Ziyad Episode 1 By Qayadat Play

۔ اس کے علاوہ ترک تاریخ دان عثمان بے کی سلطنت کے اعلان کے بارے میں الگ تاریخ بیان کرتے ہیں جو کہ کچھ یوں ہے جس طرح ارتغل غازی کے سلجوقی سلطنت سے اچھے تعلقات تھے اسی طرح عثمان غازی بھی سلجوقی سلطنت پر منگولو کے قبضے کے باوجود اس کے وفادار رہے لیکن سلجوقی سلطنت کے ہر اہم عہدے پر منگول قابض تھے اور صورت حال یہ تھی کہ سلجوقی سلطان منگولو کی اجازت کے بغیر کوئی خط تک نہیں بھیج سکتا تھا

تمام سلطنت میں طوائف الملوکی عروج پر تھی اور بہت سے غدار پیدا ہو چکے تھے جبکہ دارلحکومت قونیا کی صورتحال یہ تھی کہ کبھی منگول تخت پر سلطان مسعود کو بٹھا دیتے اور کبھی سلطان علاؤالدین کیقباد سوئم کو یعنی کہ آپ لوگ اندازہ لگائیں بارہ سو چوراسی سے تیرہ سو سات کے درمیان سلجوقی تخت پر سلطان علاؤالدین تین بار بیٹھے اور سلطان مسعود کو اس تخت پر چار بار بٹھایا گیا گویا کہ وہ سلجوقی سلطنت کا تخت نہیں تھا بلکہ کوئی میوزیکل چیئر کا کھیل ہو رہا تھا

جس پر کبھی ایک بیٹھتا اور کبھی دوسرا سلطان مسعود اور سلطان الدین کے درمیان جن دنوں اقتدار کی آنکھ مچولی چل رہی تھی اسی دوران عثمان غازی نے اپنی توجہ بازنطینی سرحدوں میں فتوحات حاصل کرنے پر رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلجوقی سلطنت کے ایوانوں میں عثمان غازی کا نام عزت سے لیا جانے لگا

یہاں تک کہ بارہ سو نواسی میں جب عثمان بے نے کراچہ حصار قلعہ فتح کیا تو اس کے بعد جمعہ کے خطبوں میں سلجوقی سلطان کے نام کے ساتھ عثمان غازی کا بھی نام لیا جانے لگا اور اسی قلعے کی فتح کے بعد عثمان غازی کے نام پر چاندی کا سکہ بھی تیار کیا گیا یہ خود مختاری کے ابتدائی آثار تھے جو کہ ایک حقیقی ریاست کے قیام کی طرف اشارہ کر رہے تھے مگر اس کے باوجود عثمان غازی کی طرف سے سلجوقی سلطان کے لیے احترام اور عقیدت کا اظہار جاری رہا ۔

خلافت عثمانیہ کا قیام

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عثمان غازی نے اپنی سلطنت اور خود مختاری کا اعلان کب کیا تھا؟ تو ناظرین کرام اس بارے میں دو روایات ہیں نمبر ایک کہ جب منگولو نے سترہ جنوری تیرہ سو عیسوی میں سلجوقی سلطان علاؤالدین کیقباد سوئم کو الخانی منگول حکمران محمود غازان کے حکم سے اس وجہ سے قید کیا کہ وہ سلطان مسعود کے حامیوں کو بڑی تعداد میں قتل کروا رہے تھے تو سلطان علاؤالدین کی گرفتاری کے بعد سلجوقی کمانڈروں نے ترکوں کی پرانی کے مطابق عثمان غازی سے بیعت کی کیونکہ سلطان علاؤالدین کے کے بعد سلجوقی تخت پر کوئی بھی حکمران بٹھانے کو نہیں بچا تھا

Kurulus Osman Episode 99 In Urdu Release Date?

اور اس بارے میں دوسری روایت یہ ہے کہ جب سلطان مسعود کو منگولو نے قتل کیا تو ان کے قتل کے ساتھ سلجوقی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ایسی صورتحال میں عثمان غازی نے اپنی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ عثمان غازی کے آس پاس کئی ترک جاگیریں اور بھی تھیں تو آزادی کے اعلان کے بعد عثمان غازی پہلے ترک کمانڈر اور جنگجو تھے جنہوں نے ان تمام ترک جاگیروں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کر کے ایک باقاعدہ سلطنت بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ان ترکمان ریاستوں میں صرف کرمیان ریاست ہی ایسی تھی

جس نے عثمانیوں کی اطاعت اور ہان غازی کے دور میں قبول کی تھی خودمختاری کے اعلان کے بعد سلجوقی سلطنت میں کوئی ایسا نہیں بچا تھا جو عثمان غازی کی آزادی کے اعلان کو چیلنج کر سکتا ۔ جب کہ منگولو کی اس وقت صورتحال یہ تھی کہ منگول الخانی سلطنت میں بھی اندرونی اختلافات پیدا ہو کر ایک خوفناک شکل اختیار کر چکے تھے جبکہ دوسری طرف بازنطینی سلطنت بھی اپنے عروج کا دور دیکھ کر زوال کی طرف تیزی سے سفر کر رہی تھی

تو ایسی صورتحال میں عثمان غازی کی بڑھتی فتوحات کو کوئی روکنے والا نہ تھا اور اس طرح قلعوں کی فتوحات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا تو ناظرین کرام یہ تو تھی عثمان غازی کی سلطنت قائم کرنے کی کہانی ، اگر آپ عثمان غازی کی سلطنت قائم کرنے میں ان کی مدد کرنے والے جانبازوں کی حقیقی تاریخ جاننا چاہتے ہیں تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کرکے دیکھ سکتے ہیں ،۔

Admin

My name is abdullah. I live in gujran wala. I want to become a blogger. I hope i give you best content

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button